readin العربية ← اردو پڑھنے کی مشق

الخَزَّافُ وَالمَدِينَةُ

کمہار اور شہر

A1 وفاق المدارس العربیہ پاکستان / اتحاد المدارس العربية باكستان › مبتدی / مبتدئ تاریخی 97 words 📅 11 ستمبر، 2026

فِي سُوقِ المَدِينَةِ دُكَّانٌ صَغِيرٌ، فِيهِ أَكْوَابٌ مِنْ طِينٍ. صَاحِبُ الدُّكَّانِ خَزَّافٌ مَاهِرٌ، يَدُهُ قَوِيَّةٌ وَقَلْبُهُ هَادِئٌ. كَانَتِ المَدِينَةُ قَوِيَّةً وَكَانَ الخَزَّافُونَ كَثِيرِينَ، ثُمَّ جَاءَتِ الحَرْبُ وَصَارَ الطِّينُ قَلِيلًا. بَعْضُ الخَزَّافِينَ تَرَكُوا العَمَلَ، لَكِنَّهُ بَقِيَ فِي دُكَّانِهِ. قَالَ لَهُ صَدِيقُهُ: لِمَاذَا لَا تَتْرُكُ الدُّكَانَ؟ فَمَاذَا كَانَ جَوَابُ الخَزَّافِ؟

شہر کے ایک چھوٹے سے بازار میں ایک کمہار کی دکان ہے، جہاں مٹی کے خوبصورت کپ بنتے ہیں۔ پرانے زمانے میں یہ شہر طاقتور تھا اور کمہاروں کا کام بہت تھا، لیکن پھر حالات بدلنے لگے۔ ایک دوست اس کمہار سے ایک اہم سوال پوچھتا ہے، اور اس کا جواب آپ کو حیران کر دے گا۔ یہ کہانی آسان عربی جملوں میں محنت، ورثے اور محبت کی بات کرتی ہے۔ عربی سیکھنے والوں کے لیے یہ متن ماضی اور حال کے فعل، صفتوں اور روزمرہ الفاظ کی بہترین مشق ہے۔

💡 ترجمہ اور تلفظ دیکھنے کے لیے کسی بھی لفظ پر کلک کریں

فِي سُوقِ المَدِينَةِ دُكَّانٌ صَغِيرٌ. فِيهِ أَكْوَابٌ مِنْ طِينٍ. صَاحِبُ الدُّكَّانِ رَجُلٌ كَبِيرٌ. هُوَ خَزَّافٌ مَاهِرٌ. يَدُهُ قَوِيَّةٌ وَقَلْبُهُ هَادِئٌ.

النَّاسُ يُحِبُّونَ الأَكْوَابَ. هِيَ جَمِيلَةٌ وَرَخِيصَةٌ. فِي القَدِيمِ، كَانَتِ المَدِينَةُ قَوِيَّةً. كَانَ الخَزَّافُونَ كَثِيرِينَ. كَانَ العَمَلُ كَثِيرًا.

ثُمَّ جَاءَتِ الحَرْبُ. صَارَ الطِّينُ قَلِيلًا. صَارَ النَّاسُ فُقَرَاءَ. بَعْضُ الخَزَّافِينَ تَرَكُوا العَمَلَ. لَكِنَّهُ بَقِيَ فِي دُكَّانِهِ.

قَالَ لَهُ صَدِيقُهُ: لِمَاذَا لَا تَتْرُكُ الدُّكَانَ؟ قَالَ الخَزَّافُ: هَذِهِ صِنَاعَةُ أَبِي وَجَدِّي. أَنَا أُحِبُّ الطِّينَ.

الآنَ الدُّكَّانُ صَغِيرٌ. الأَكْوَابُ قَلِيلَةٌ. النَّاسُ يَشْتَرُونَ كُوبًا وَاحِدًا. لَكِنَّ الخَزَّافَ سَعِيدٌ. هُوَ يَعْمَلُ مِنْ الصَّبَاحِ إِلَى المَسَاءِ.

فِي المَدِينَةِ خَزَّافُونَ قَلِيلُونَ. هُمْ يَقِلُّونَ يَوْمًا بَعْدَ يَوْمٍ.

🌐مادری زبان میں مکمل ترجمہ▼
شہر کے بازار میں ایک چھوٹی دکان ہے۔ اس میں مٹی کے کپ ہیں۔ دکان کا مالک ایک بڑی عمر کا آدمی ہے۔ وہ ایک ماہر کمہار ہے۔ اس کا ہاتھ مضبوط اور اس کا دل پرسکون ہے۔ لوگ کپ پسند کرتے ہیں۔ وہ خوبصورت اور سستی ہیں۔ پرانے زمانے میں، شہر طاقتور تھا۔ کمہار بہت تھے۔ کام بہت تھا۔ پھر جنگ آئی۔ مٹی کم ہو گئی۔ لوگ غریب ہو گئے۔ کچھ کمہاروں نے کام چھوڑ دیا۔ لیکن وہ اپنی دکان میں رہا۔ اس کے دوست نے اس سے کہا: تم دکان کیوں نہیں چھوڑتے؟ کمہار نے کہا: یہ میرے باپ اور دادا کی صنعت ہے۔ مجھے مٹی سے محبت ہے۔ اب دکان چھوٹی ہے۔ کپ کم ہیں۔ لوگ ایک کپ خریدتے ہیں۔ لیکن کمہار خوش ہے۔ وہ صبح سے شام تک کام کرتا ہے۔ شہر میں کمہار کم ہیں۔ وہ دن بہ دن کم ہو رہے ہیں۔

📝 اہم جملے

صَاحِبُ الدُّكَّانِ → دکان کا مالک
فِي القَدِيمِ → پرانے زمانے میں
صَارَ ... قَلِيلًا → کم ہو گیا
تَرَكُوا العَمَلَ → انہوں نے کام چھوڑ دیا
مِنْ الصَّبَاحِ إِلَى المَسَاءِ → صبح سے شام تک
يَوْمًا بَعْدَ يَوْمٍ → دن بہ دن
صِنَاعَةُ أَبِي وَجَدِّي → میرے باپ اور دادا کی صنعت

❓ FAQ

اس کہانی کو پڑھنے کے بعد عربی کی مشق کیسے کی جا سکتی ہے؟
پہلے پورے متن کو بلند آواز میں تین بار پڑھیں، پھر ہر پیراگراف کو ایک ایک کر کے بغیر دیکھے سنائیں۔ اس کے بعد 'خَزَّاف، طِين، دُكَّان' جیسے اہم الفاظ کے ساتھ اپنے جملے بنائیں، مثلاً 'أَنَا أُحِبُّ الطِّينَ' یا 'الدُّكَّانُ صَغِيرٌ'۔ آخر میں کہانی کو اپنے الفاظ میں مختصراً سنائیں، اس سے ماضی اور حال کے فعلوں کی مشق ہو گی۔
'كَانَ' اور 'صَارَ' میں کیا فرق ہے؟
'كَانَ' ماضی میں کسی حالت کے جاری رہنے کے لیے آتا ہے، جیسے 'كَانَتِ المَدِينَةُ قَوِيَّةً' (شہر طاقتور تھا)۔ جبکہ 'صَارَ' تبدیلی ظاہر کرتا ہے، یعنی پہلے کچھ اور تھا اور اب کچھ اور ہو گیا، جیسے 'صَارَ الطِّينُ قَلِيلًا' (مٹی کم ہو گئی)۔ یاد رکھیں: 'كَانَ' حالت بتاتا ہے، 'صَارَ' تبدیلی۔
کہانی میں کمہار کے پیشے کی کیا اہمیت ہے؟
عرب دنیا میں کمہاری (خَزَّافَة) ایک قدیم دستکاری ہے، خاص طور پر شام، مصر اور مراکش میں مٹی کے برتن مشہور ہیں۔ کہانی میں کمہار کا اپنے باپ دادا کے پیشے سے جڑاؤ اس ثقافتی ورثے کی علامت ہے۔ جنگ اور غربت کے باوجود دکان نہ چھوڑنا روایتی دستکاری سے محبت اور اسے زندہ رکھنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔
متن میں حروفِ جر (مِنْ، فِي، إِلَى) کیسے پہچانیں؟
حروفِ جر اسم سے پہلے آتے ہیں اور اسم کو مجرور بناتے ہیں، یعنی آخری حرکت کسرہ ہو جاتی ہے۔ مثال: 'فِي سُوقِ المَدِينَةِ' میں 'سُوقِ' مجرور ہے، 'مِنْ طِينٍ' میں 'طِينٍ' مجرور ہے، اور 'إِلَى المَسَاءِ' میں 'المَسَاءِ' مجرور ہے۔ مشق کے لیے متن سے تینوں حروفِ جر والے جملے الگ کریں اور ان کے اسماء پر غور کریں۔
⚡ مضمون کی وضاحت
مناسب برائے
عربی زبان کے ابتدائی اور درمیانی سطح کے سیکھنے والے، خاص طور پر وہ جو اردو بولتے ہیں اور آسان فصیح عربی پڑھنا چاہتے ہیں۔
سطح
A2-B1 (ابتدائی سے درمیانی)، جملے مختصر اور الفاظ روزمرہ کے ہیں، ماضی اور حال کے بنیادی فعلوں کی مشق کے لیے موزوں۔
بنیادی الفاظ
120 words
گرامر کا مرکزی نکتہ
ماضی کے فعل (كَانَ، صَارَ، بَقِيَ)، حروفِ جر (مِنْ، فِي، إِلَى)، اسم اور صفت کی مطابقت، اور جمع کے صیغے۔
پڑھنے کا ہدف
آسان عربی متن کے ذریعے ماضی اور حال کے فعلوں، صفتوں اور حروفِ جر کی پہچان اور روزمرہ الفاظ کو سیکھنا۔
“فِي سُوقِ المَدِينَةِ دُكَّانٌ صَغِيرٌ، فِيهِ أَكْوَابٌ مِنْ طِينٍ. صَاحِبُ الدُّكَّانِ خَزَّافٌ مَاهِرٌ، يَدُهُ قَوِيَّةٌ وَقَلْبُهُ هَادِئٌ. كَانَتِ المَدِينَةُ قَوِيَّةً وَكَانَ الخَزَّافُونَ كَثِيرِينَ، ثُمَّ جَاءَتِ الحَرْبُ وَصَارَ الطِّينُ قَلِيلًا. بَعْضُ الخَزَّافِينَ تَرَكُوا العَمَلَ، لَكِنَّهُ بَقِيَ فِي دُكَّانِهِ. قَالَ لَهُ صَدِيقُهُ: لِمَاذَا لَا تَتْرُكُ الدُّكَانَ؟ فَمَاذَا كَانَ جَوَابُ الخَزَّافِ؟”
0 الفاظ · بغیر الفاظ کے بھی شروع کیا جا سکتا ہے