readin العربية ← اردو پڑھنے کی مشق

الغُرْفَةُ رَقْمُ ٣ فِي الْفُنْدُقِ الْقَدِيمِ

پرانا ہوٹل کا کمرہ نمبر ٣

B1 राज्य मदरसा शिक्षा बोर्ड / مجالس تعليم المدارس الدينية في الهند - اللغة العربية › आलिम / عالِم خوفناک / سنسنی خیز 143 words 📅 7 اکتوبر، 2026

وَصَلَ سَعِيدٌ إِلَى الْفُنْدُقِ الْقَدِيمِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، فَأَعْطَاهُ الْمُوَظَّفُ الْمِفْتَاحَ مَعَ شُرُوطٍ غَرِيبَةٍ: لَا تَفْتَحِ النَّافِذَةَ، وَلَا تَنْظُرْ فِي الْمِرْآةِ طَوِيلًا، وَلَا تَشْرَبْ مِنْ صُنْبُورِ الْحَمَّامِ. وَجَدَ سَعِيدٌ وَرَقَةً مَكْتُوبًا فِيهَا تَحْذِيرٌ غَامِضٌ. تُرَى مَاذَا سَيَحْدُثُ فِي الْغُرْفَةِ رَقْمِ ثَلَاثَةٍ؟

یہ عربی کہانی ایک پرانے ہوٹل کے تیسرے نمبر کے کمرے میں رونما ہوتی ہے، جہاں ملازم سعید کو کچھ عجیب شرائط بتاتا ہے۔ کہانی میں عربی کے امر اور نہی فعل، شرطی جملے، اور ماضی و حال کے دلچسپ استعمال سیکھنے کو ملتے ہیں۔ اگر آپ عربی میں خوفناک اور پراسرار کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو یہ متن آپ کے لیے بہترین ہے۔ آخر میں ایک ایسا سوال اٹھتا ہے جو آپ کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دے گا۔

💡 ترجمہ اور تلفظ دیکھنے کے لیے کسی بھی لفظ پر کلک کریں

وَصَلَ سَعِيدٌ إِلَى الْفُنْدُقِ الْقَدِيمِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ. قَالَ لَهُ الْمُوَظَّفُ: "لَا تَفْتَحِ النَّافِذَةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ". وَلَا تَنْظُرْ فِي الْمِرْآةِ طَوِيلًا. وَلَا تَشْرَبْ مِنْ صُنْبُورِ الْحَمَّامِ. أَيْضًا لَا تَتَكَلَّمْ بَعْدَ مُنْتَصَفِ اللَّيْلِ. سَأَلَ سَعِيدٌ: "لِمَاذَا؟" لَكِنَّ الْمُوَظَّفَ لَمْ يُجِبْ. فَقَطْ أَعْطَاهُ الْمِفْتَاحَ وَقَالَ: "اِحْفَظِ الشُّرُوطَ". صَعِدَ سَعِيدٌ إِلَى الْغُرْفَةِ رَقْمِ ثَلَاثَةٍ. كَانَتِ الْغُرْفَةُ بَارِدَةً وَالرَّائِحَةُ غَرِيبَةً. وَجَدَ عَلَى الطَّاوِلَةِ وَرَقَةً مَكْتُوبًا فِيهَا: "إِنْ خَالَفْتَ شَرْطًا وَاحِدًا، لَنْ تَخْرُجَ مِنْ هُنَا". ضَحِكَ سَعِيدٌ وَقَالَ: "هَذَا كَلَامٌ فَارِغٌ". فِي اللَّيْلِ، شَعَرَ بِالْعَطَشِ. الْمَاءُ فِي الصُّنْبُورِ كَانَ بَارِدًا وَنَظِيفًا. قَالَ لِنَفْسِهِ: "شَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ لَنْ تَضُرَّ". شَرِبَ. فَجْأَةً، سَمِعَ صَوْتًا مِنَ الْحَمَّامِ. كَانَ الصَّوْتُ يَقُولُ: "شَكَرًا". خَافَ سَعِيدٌ وَأَغْلَقَ الْبَابَ. فِي الصَّبَاحِ، لَمْ يَجِدْ أَحَدًا فِي الْفُنْدُقِ. الْغُرْفَةُ رَقْمُ ثَلَاثَةٍ صَارَتْ فَارِغَةً. لَكِنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ الشُّرُوطَ جَيِّدًا. هُوَ لَمْ يَنْظُرْ فِي الْمِرْآةِ. لَمْ يَتَكَلَّمْ بَعْدَ مُنْتَصَفِ اللَّيْلِ. لَمْ يَفْتَحِ النَّافِذَةَ. فَلِمَاذَا مَازَالَ الصَّوْتُ يَأْتِي كُلَّ لَيْلَةٍ؟

🌐مادری زبان میں مکمل ترجمہ▼
سعید رات کے آخری حصے میں پرانے ہوٹل پہنچا۔ ملازم نے اسے کہا: "عشاء کی نماز کے بعد کھڑکی نہ کھولو۔" اور آئینے میں دیر تک نہ دیکھو۔ اور غسل خانے کے نل سے پانی نہ پیو۔ نیز آدھی رات کے بعد بات نہ کرو۔ سعید نے پوچھا: "کیوں؟" لیکن ملازم نے جواب نہ دیا۔ صرف اسے چابی دی اور کہا: "شرائط یاد رکھو۔" سعید تیسرے نمبر کے کمرے کی طرف چڑھا۔ کمرہ ٹھنڈا تھا اور بو عجیب تھی۔ میز پر اسے ایک کاغذ ملا جس پر لکھا تھا: "اگر تم نے ایک شرط بھی توڑی، تو یہاں سے ہرگز نہ نکلو گے۔" سعید ہنسا اور کہا: "یہ بے معنی بات ہے۔" رات کو اسے پیاس محسوس ہوئی۔ نل کا پانی ٹھنڈا اور صاف تھا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا: "ایک گھونٹ نقصان نہیں دے گا۔" اس نے پیا۔ اچانک، اس نے غسل خانے سے ایک آواز سنی۔ آواز کہہ رہی تھی: "شکریہ۔" سعید ڈرا اور دروازہ بند کر دیا۔ صبح، اسے ہوٹل میں کوئی نہ ملا۔ تیسرے نمبر کا کمرہ خالی ہو گیا تھا۔ لیکن وہ شرائط اچھی طرح یاد رکھتا تھا۔ اس نے آئینے میں نہیں دیکھا۔ آدھی رات کے بعد بات نہیں کی۔ کھڑکی نہیں کھولی۔ تو پھر کیوں وہ آواز اب بھی ہر رات آتی ہے؟

📝 اہم جملے

آخِرِ اللَّيْلِ → رات کے آخری حصے میں
صَلَاةِ الْعِشَاءِ → عشاء کی نماز
مُنْتَصَفِ اللَّيْلِ → آدھی رات
كَلَامٌ فَارِغٌ → بے معنی بات
شَعَرَ بِالْعَطَشِ → پیاس محسوس کی
لَنْ تَضُرَّ → نقصان نہیں دے گا
اِحْفَظِ الشُّرُوطَ → شرائط یاد رکھو

❓ FAQ

اس کہانی کو پڑھنے کے بعد عربی کی مشق کیسے کی جا سکتی ہے؟
سب سے پہلے کہانی کو بلند آواز میں تین بار پڑھیں، پھر ہر جملے کو ریکارڈ کریں اور اصل متن سے موازنہ کریں۔ اس کے بعد ملازم کے دیے گئے پانچ ممنوعات کو یاد کر کے اپنے الفاظ میں دہرائیں۔ آخر میں 'لَا تَفْتَحِ' اور 'لَا تَنْظُرْ' جیسے امر و نہی کے جملے خود بنا کر لکھیں۔
عربی میں 'لَمْ' کے بعد فعل کی شکل کیوں بدل جاتی ہے؟
'لَمْ' ایک جازمہ حرف ہے جو مضارع فعل پر آتا ہے اور اسے مجزوم بنا دیتا ہے۔ اس کا مطلب ماضی منفی ہوتا ہے۔ مثلاً 'لَمْ يُجِبْ' کا مطلب ہے 'اس نے جواب نہیں دیا'۔ غور کریں کہ 'يُجِبْ' اصل میں 'يُجِيبُ' تھا، لیکن 'لَمْ' کی وجہ سے آخری حرف گر گیا۔ اسی طرح 'لَمْ يَجِدْ'، 'لَمْ يَنْظُرْ' اور 'لَمْ يَتَكَلَّمْ' بھی اسی قاعدے کی مثالیں ہیں۔
کیا عربی ثقافت میں پرانے ہوٹل اور جنات کے بارے میں کوئی خاص عقیدہ ہے؟
عرب ممالک کی لوک کہانیوں میں پرانے ہوٹل، ویران گھر اور جنات کا ذکر عام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسی جگہوں پر رات کو کچھ آوازیں آتی ہیں اور کچھ کام کرنے سے منع کیا جاتا ہے، جیسے آئینے میں دیر تک دیکھنا یا آدھی رات کے بعد بات کرنا۔ یہ عقائد قرآن و حدیث سے نہیں بلکہ عوامی روایات سے آتے ہیں، اور ادیب انہیں خوفناک کہانیوں میں خوب استعمال کرتے ہیں۔
کہانی میں 'لَنْ' اور 'لَا' میں کیا فرق ہے؟
'لَا' عام نفی کے لیے آتا ہے اور حال یا مستقبل دونوں میں استعمال ہو سکتا ہے، جیسے 'لَا تَفْتَحِ النَّافِذَةَ' یعنی 'کھڑکی نہ کھولو'۔ لیکن 'لَنْ' مستقبل میں تاکید کے ساتھ نفی کرتا ہے اور اس کے بعد فعل منصوب ہوتا ہے، جیسے 'لَنْ تَخْرُجَ' یعنی 'تم ہرگز نہ نکلو گے' اور 'لَنْ تَضُرَّ' یعنی 'نقصان نہیں دے گا'۔ یہ فرق سمجھنے سے عربی جملوں کا مفہوم زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
⚡ مضمون کی وضاحت
مناسب برائے
عربی زبان کے ابتدائی اور درمیانی سطح کے سیکھنے والے، خاص طور پر وہ جو مختصر خوفناک کہانیوں کے ذریعے الفاظ اور گرامر سیکھنا چاہتے ہیں
سطح
ابتدائی سے درمیانی سطح، کیونکہ جملے مختصر ہیں لیکن امر و نہی، جازمہ اور شرطی اسلوب شامل ہیں
بنیادی الفاظ
120 words
گرامر کا مرکزی نکتہ
امر و نہی کے فعل، 'لَمْ' اور 'لَنْ' کے بعد فعل کی تبدیلی، شرطی جملے، اور ماضی و مضارع کا استعمال
پڑھنے کا ہدف
ایک پراسرار عربی کہانی پڑھتے ہوئے ممنوعات اور شرائط سے متعلق اہم الفاظ و گرامر سیکھنا
“وَصَلَ سَعِيدٌ إِلَى الْفُنْدُقِ الْقَدِيمِ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، فَأَعْطَاهُ الْمُوَظَّفُ الْمِفْتَاحَ مَعَ شُرُوطٍ غَرِيبَةٍ: لَا تَفْتَحِ النَّافِذَةَ، وَلَا تَنْظُرْ فِي الْمِرْآةِ طَوِيلًا، وَلَا تَشْرَبْ مِنْ صُنْبُورِ الْحَمَّامِ. وَجَدَ سَعِيدٌ وَرَقَةً مَكْتُوبًا فِيهَا تَحْذِيرٌ غَامِضٌ. تُرَى مَاذَا سَيَحْدُثُ فِي الْغُرْفَةِ رَقْمِ ثَلَاثَةٍ؟”
0 الفاظ · بغیر الفاظ کے بھی شروع کیا جا سکتا ہے